Monday, October 14, 2013

پولیس کی تنظیم نو کیسے ہو

ایک افسر کسی دیہی تھانہ کے معائنہ کے لیئے گیا۔ معائنہ کے دوران اس  نے پوچھا، "یہاں کتنے افراد کے سونے کی گنجائش ہے؟ جواب ملا، "چارپائی سے چارپائی ملا کر بچھائیں تو 23 کی جگہ بنتی ہے۔" "تھانہ میں کل کتنے ملازمین ہیں؟" "70۔" باقی لوگ کہاں سوتے ہیں؟" "گائوں میں کرایہ پر دینے کے لیئے مکان تو ہوتے نہیں۔ یہاں کے چودھری رہنے کو جگہ دے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی ہر جائز ناجائز بات ماننی پڑتی ہے۔"
یہیں سے خرابی شروع ہوتی ہے۔ پنجاب میں آدھے سے زیادہ تھانوں کی یا تو عمارت ہی نہیں، یا ناکافی اور بوسیدہ ہے۔ چند دہائیاں پہلے تھانوں کی تعداد بڑھائی گئی تو ان کی عمارتوں کے لیئے بجٹ نہ رکھا گیا کہ "بعد میں بنتی رہیں گی۔" وہ آج تک نہیں بنیں۔ چنانچہ تھانے مکانوں، فلیٹوں، دکانوں، یہاں تک کہ خیموں میں بنائے گئے۔
ہر تھانہ کی عمارت میں تمام ضرورتیں پوری ہونی چاہیئیِں۔ جہاں عمارت نہیں، ناکافی ہے یا بوسیدہ ہو چکی ہے، وہاں جلد از جلد نئی بنائی جائے۔ اس میں تمام عملہ کے لیئے عمدہ رہائش ہو۔ تھانیدار اور سینیئر عملہ کے لیئے فیمیلی فلیٹ ہوں۔ تھانہ ہی میں عدالت کے لیئے جگہ ہو، تاکہ مقدمات کی کاروائی بروقت اور آسانی سے ہو سکے۔
نئی عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ پولیس کی تنظیم نو بھی ہونی چاہیئے۔ انگریزوں نے دو متضآد فرائض پولیس کو سونپ دیئے، جو موجودہ حالات میں ادا کرنا نہائت مشکل ہے۔ وہ ایک طرف جرائم کی تفتیش اور مقدمات کی پیروی کرتی ہے اور دوسری طرف گشت، پہرہ اور اعلا حکام کی حفاظت کرتی ہے۔ پولیس آرڈر 2001 میں دونوں فرائض الگ کیئے گئے لیکن بات نہیں بنی۔ ہونا یہ چاہیئے کہ پولیس کو صرف جرائم کی تفتیش تک محدود کر دیا جائے۔ دوسرے کاموں کے لیئے "امانیہ" کے نام سے ایک الگ تنظیم بنائی جائے۔ (اس تجویز کی تفصیل اگلے کالم میں دی جائے گی۔)
پولیس میں کام کرنے والوں کی نگرانی پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل، اسسٹنٹ سب انسپیکٹر، سب انسپیکٹر، انسپیکٹر، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے بعد کہیں جا کر بنیادی سکیل 17 کا اے۔ ایس۔ پی۔ آتا ہے۔ اتنے لیول یہ سوچ کر بھی رکھے گئے کہ ترقی کے مواقع ملتے رہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ بہت سی اسامیاں صرف ترقی دینے کی لیئے پیدا کرنی پڑتی ہیں، چاہے ان کی ضرورت نہ ہو۔
اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ اسامیاں کم کر دی جائیں لیکن ترقی کے بغیر بھی تنخواہ میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے۔ اس طرح عہدہ میں ترقی نہ سہی، مالی طور پر بہتری ہوتی رہے گی۔ ساتھ ساتھ سہولتیں بھی زیادہ ہوتی جائیں گی۔ ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ تفتیش کرتے کرتے اتنا تجربہ ہو جائے گا کہ مشکل سے مشکل کیس بھی آسانی سے حل کیا جا سکے گا۔ فیلڈ کا تجربہ رکھنے والے کو انتظامی ذمہ داری یا نگرانی پر لگانا اس کی صلاحیت کو زنگ لگانا ہے۔ مثلا، اچھے استاد کو پڑھانے سے اور اچھے سرجن کو سرجری سے علیحدہ کرنے سے نقصان ہی ہوتا ہے، فائدہ نہیں۔
تنظیم نو کے بعد تھانہ میں ضرورت کے مطابق صرف "تفتیشی افسر" ہونے چاہیئیں۔ ہر ایک کا حکومت کے مقرر کردہ بنیادی سکیل کی بجائے اپنا سکیل ہو۔ ہر افسر کے ساتھ چند مددگار ہوں۔ تھانہ دار انتظامی امور نپٹانے کے ساتھ تفتیشی افسروں میں کام تقسیم کرے اور ان کی نگرانی کرے۔
ایک یا، جہاں کام کم ہو، ایک سے زیادہ تھانوں کا سربراہ ایک اے۔ ایس۔ پی، ہو۔ براہ راست بھرتی اور جوان ہونے کی بنا پر اس میں مشکلات سے نپٹنے کا حوصلہ اور دیانت داری سے کام کرنے کا عزم ہوگا۔ اس کا بھی ذاتی سکیل ہو۔ اے۔ ایس۔ پی۔ سے اوپر ضلع پولیس افسر ہو، جو رابطہ اور نگرانی کا کام کرے۔
عمارتوں اور تنظیم نو کے ساتھ تھانہ کی ضرورتیں بھِی پوری کرنی ہونگی۔ ہر تھانہ کے سربراہ کو ہر پانچ سال بعد نئی جیپ، ہر تفتیشی افسر کو موٹر سائیکل اور اس کے ہر مددگار کو سائیکل دی جائے۔ مقررہ مدت کے بعد یہ گاڑیاں تھانہ کے پول میں چلی جائیں تاکہ کسی سواری کے خراب ہونے یا کسی اور ہنگامی ضرورت کے لیئے استعمال کیا جا سکے۔
پولیس کا اپنا مواصلاتی نظام ہونا چاہیئے تاکہ ایک تفتیشی افسر ضرورت پڑنے پر ملک بھر میں کسی بھی تفتیشی افسر سے بات کر سکے۔ مثلا، بہاولنگر میں پکڑا جانے والا کوئی ملزم بتائے کہ اس کا اایک ساتھی ٹھٹھہ میں ہے تو تفتیشی افسر فورا وہاں اس کی گرفتاری کے لیئے کہہ سکے۔
تھانہ کلچر کی خرابی سیاسی مداخلت کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ ارکان اسمبلی وزیر اعلا سے کہہ کر پولیس افسروں کے تبادلے اور تقرر کراتے ہیں۔ صوبائی پولیس افسر (آئی۔ جی۔) بھی سیاسی دبائو سے ْآزاد نہیں۔ اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پہلے دور میں چلے جائیں، جب مرکزی حکومت کے افسروں کے تقرر، ترقی، تبادلہ، معطلی، سزا، وغیرہ کے معاملات میں فیصلے صدر کیا کرتا تھا۔ وزیر اعظم بھٹو نے یہ اختیار خود لے کر افسروں کے کام میں سیاست کاروں کی مداخلت کا راستہ کھول دیا۔ اب پولیس افسر اپنے تحفظ اور مفاد کی خاطر سیاست کاروں کا آلہ کار بننے پر مجبور ہیں۔ یہیں سے رشوت، بدعنوانی، اور بے انصافی کا آغاز ہوتا ہے۔
جب  تک پولیس صوبائی محکمہ رہے گا، اس کے کام میں سیاست کاروں کی مداخلت ہوتی رہے گی اور تھانہ کلچر کبھی بہتر نہیں ہو سکتا۔ پولیس مرکزی حکومت کے تحت ہونی چاہیئے۔ اس طرح ملک بھر میں یکساں سوچ اور طریق کار کے تحت کام ہوگا۔ اس کا سربراہ "مرکزی پولیس افسر" ہو، مقررہ مدت سے پہلے ہٹایا نہ جا سکے تاکہ آزادی کے ساتھ کام کرے اور کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہ ہونے دے۔ تبادلہ یا کسی عہدہ پر تقرر صرف میرٹ پر ہو۔ انتظامی معاملات میں وزیر داخلہ یا وزیر اعظم بھی مداخلت نہ کر سکے۔ اس طرح ہر سطح پر یکسوئی اور دیانت داری سے کام ہو سکے گا اور پولیس کلچر صحیح معنوں میں بدل جائے گا۔
پولیس سے امن و امان کی ذمہ داری لے کر اسے صرف جرائم کی تفتیش تک محدود کر دیا جائے (جیسا کہ پچھلے کالم میں تجویز کیا گیا)۔ گشت، پہرہ، پروٹوکول ڈیوٹی اور دوسرے کاموں کے لیئے "امانیہ" (امان دینے والی) کے نام سے ایک نئی ملک گیر تنظیم بنائی جائے، جو مرکزی حکومت کے تحت کام کرے۔
امانیہ "واچ اور وارڈ" کے وسیع تر مفہوم میں فرائض ادا کرے، بشمول اہم مقامات اور عمارتوں کی حفاظت، اہم شخصیات کی رہائش گاہوں پر پہرہ اور ان کے ساتھ حفاظتی حصار بنا کر چلنا، جلسوں، جلوسوں، مظاہروں، وغیرہ، میں توڑ پھوڑ یا بد امنی روکنا۔ یہی تنظیم ریلوے، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور اہم سڑکوں کی بھی حفاظت کرے۔
امانیہ میں باہر سے کوئی عارضی یا مستقل طور پر نہ آئے اور نہ کوئی باہر جائے۔ اس طرح ابتدائی تربیت کے بعد کسی کو کچھ سکھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کام میں تسلسل بھی رہے گا۔ ریفریشر کورسوں سے نئے طریقے سکھائے جائیں۔ اگر ضرورت ہو تو باہر سے ماہر بلائے جائیں گے، جو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دیں۔ تربیت کے لیئے باہر بھیجنے کی نسبت باہر سے ماہرین کو بلانے پر بہت کم خرچ ہوگا کیوںکہ اس طرح ایک فرد بہت سے ملازموں کو تربیت دے گا۔
امانیہ کی بھرتی دو سطحوں پر ہو۔ ابتدائی سطح پر نوجوان بھرتی ہوں۔ ان میں ایسی صلاحیتیں ہوں، جو فیلڈ میں ڈیوٹی دینے کے لیئے ضروری ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ فوج سے سبکدوش ہونے والے جوان بھرتی کیئے جائیں۔ فوج کے جوان 30 سے 40 سال کی عمر کے درمیان سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں عام طور سیکیورٹی ایجنسیوں میں ملازمت ملتی ہے، جس میں ڈیوٹی بڑی سخت اور تنخاہ بہت کم ہوتی ہے۔ دوسرے اداروں میں بھی بہت معمولی قسم کی ملازمت ملتی ہے۔ یہ جوان ملک کے دفاع کے لیئے جان فشانی سے کام کرتے ہیں، جس میں جان تک کی قربانی دی جاتی ہے۔ اگر انھیں امانیہ میں شامل کر لیا جائے تو وہ 60 سال تک ملک کی خدمت کر سکتے ہیں۔ انھیں فوج سے سبک دوشی کے بعد خوار نہیں ہونا پڑے گا۔ انھیں ڈسپلن میں رہ کر کام کرنے کی عادت ہوتی ہے، جس کی بنا پر ان کی کارکردگی بہت اچھی ہوگی۔ مزید تربیت سے وہ بہت بہتر کام کریں گے۔ فوج کے سبکدوش جوانوں کو بھرتی کرنے سے امانیہ فوجی تنظیم نہیں بن جائے گی کیونکہ اس کی انتظامیہ پوری طرح سویلین ہوگی۔
امانیہ کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہو۔ اس سے نیچے تمام امور ضلع کی سطح پر نپٹائے جائیں گے۔ وہیں سے ضلع انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق ڈیوٹی لگائی جائے۔ (صوبہ کی سطح پر تنظیم کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ سارا کام ضلع کی سطح پر ہوگا۔) تمام جوان مسلح ہوں اور اسلحہ کا استعمال اچھی طرح جانتے ہوں تاکہ توڑپھوڑ کرنے والوں کو طاقت سے روک سکیں۔ ان دنوں پولیس کے پاس ناکافی اور ناکارہ اسلحہ اور آلات ہیں اور ان کے استعمال کی تربیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ امانیہ کے جوانوں کے پاس دوسرے آلات بھی ہوںگے۔ ٹرانسپورٹ بھی ہوگی تاکہ جہاں گڑبڑ ہو وہاں فوری طور پر پہنچ جائِیں۔
امانیہ کا کوئی افسر باہر سے نہیں آئے گا، چاہے فوج سے یا پولیس سے، چاہے حاضر سروس ہو یا سبک دوش۔ اس طرح بیرونی مداخلت نہیں ہوگی اور نہ گروپ بندی اور اندرونی چپقلش کا امکان رہے گا۔ امانیہ کے افسر پبلک سروس کمشن کے ذریعہ بھرتی ہوں گے۔ اس کے بعد ان کی ترقی صرف کارکردگی کی بنا پر ہوگی۔ صرف ترقی کے لیئے اسامیاں پیدا نہیں کی جائیں گی۔ اس طرح نہ غیرضروری سکیل ہوں گے اور نہ اسامیاں۔ ہر ایک کا ذاتی سکیل ہو، جس کے تحت تنخاہ میں اضافہ ہر سال خود بخود ہوتا رہے اور 55 سال کی عمر تک جاری رہے۔ اس کے بعد سبک دوشی تک اضافہ نہ ہو۔ ماتحت عملہ کے لیئے بھی یہی صورت ہوگی۔ سبک دوشی کی عمر مقرر نہیں ہوگی۔ ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست اہل کار کام کرتا رہے گا۔ ماتحت بھی صرف میرٹ پر بھرتی ہوں۔ سفارش کرنے والا سیاسی یا کسی اور قسم کا دبائو نہ ڈال سکے گا۔ اس لیئے جو تندہی سے کام نہ کرے، فارغ کر دیا جائے۔
امانیہ اپنے طور پر کاروائی نہ کیا کرے۔ اگر کسی دفتر یا عمارت یا کسی رہائش گاہ پر حفاظت یا پہرہ کی ضرورت ہوگی تو اس کا سربراہ تحریری طور پر ضروری عملہ طلب کرے۔ پہرہ کے لیئے عملہ کی تعداد مرکزی حکومت کی طے کردہ پالیسی کے مطابق مقرر کی جائے۔ یہ نہ ہو کہ کسی کی حفاظت کے لیئے 10 افراد ہوں اور کسی کے لیئے 20۔
ضلع انتظامیہ نے کسی جلسہ، جلوس یا مظاہرہ کی اجازت دی ہو یا نہ، وہ امانیہ کے ضلع افسر کو تحریری طور پر حفاظت کے لیئے کہے۔ کسی ذاتی معاملہ کے لیئے نہ کہا جائے، جیسے کسی فرد کے زمین یا مکان کا قبضہ لینا (سوائے اس کے کہ عدالت کا حکم ہو)، مخالفوں کو ڈرانا دھمکانا یا کوئی اور ذاتی مسئلہ۔
امانیہ کی کاروائی جلوس یا مظاہرہ میں توڑ پھوڑ یا نقص امن روکنے تک محدود ہوگی۔ جن کے خلاف اسے کاروائی کا اختیار ہوگا، انھیں گرفتار کر کے بھاری جرمانہ وصول کیا جائے گا اور آئندہ کے لیئے تحریری معافی نامہ بھی لیا جائے گا تاکہ اگر پھر وہی حرکت کرے تو زیادہ سخت سزا دی جا سکے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت کوئی جرم سرزد ہو تو ملزموں کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالہ کر دیا جائے۔ گرفتار کرنے والا اپنا مفصل بیان رکارڈ کرائے اور عدالت میں گواہی بھی دے۔
امنیہ کا سربراہ اندرونی ترقی سے ہی بنے۔ اس کا عہدہ آئینی ہو۔ اسے ہٹانے کے لیئے سپریم جوڈیشنل کونسل کو ریفرینس بھیجا جائے، جیسے نیب کے سربراہ کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح سربراہ کے کام میں حکمرانوں اور سیاست کاروں کے لیئے مداخلت کرنا یا دبائو ڈالنا آسان نہیں رہے گا۔
امانیہ کے قیام سے پولیس صرف جرائم کی تفتیش اور ان کے مقدمات کے استغاثہ تک محدود ہونے سے جرائم پر کنٹرول کہیں زیادہ موثر ہوگا۔

"مہاجر" کیسے مقامی بن سکتے ہیں

ہجرت ایک کیفیت ہوتی ہے۔ آپ دلی سے ریل گاڑی میں بیٹھے تو ہجرت شروع ہو گئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر اترے تو ختم ہو گئی۔ اس کے بعد جیسا برا بھلا ٹھکانہ ملا وہاں رہنا پڑا اور جو چھوٹا موٹا روزگار ملا، اسی پر گزارہ کرنا پڑا۔ جہاں سے آئے وہ آپ کا ماضی تھا اور جہاں رہ رہے ہیں، وہ آپ کا حال ہے۔ آپ کی زندگی حال ہی میں گزرے گی، ماضی میں نہیں۔
گھوڑوں اور جوانوں کی طرح مسلمانوں کا بھی کوئی مستقل دیس نہیں ہوتا۔ وہ جہاں بس جائیں، وہی ان کا دیس ہے۔ اسلام سیاسی سرحدوں کو نہیں مانتا۔ بقول اقبال، "مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔" پاکستان سے انگلستان جا کر بسنے والے پاکستانی نژاد تو ہو سکتے ہیں لیکن پاکستانی نہیں۔ دینی لحاظ سے البتہ وہ ہمارے بھائی ہیں۔
مسلمان جہاں بھی گئے، فاتحین کی حیثیت سے، تاجروں کے طور پر یا ہجرت کر کے، انھوں نے جلد از جلد مقامی  زبان سیکھی۔ میل جول سے ان کی زبان کے بہت سے الفاظ مقامی زبان میں داخل ہو گئے اور بعض عربی خط میں لکھی جانے لگیں۔ تاہم کہیں بھی مقامی زبان کی جگہ عربی نافذ نہ کی گئی۔
انھوں نے اپنے دین کو تو قائم رکھا لیکن دنیاوی لین دین اور تعلقات میں مقامی آبادی میں گھل مل جاتے۔ مقامی لوگوں سے شادیاں کرتے۔ یہاں تک کہ اگلی نسل بالکل مقامی ہو جاتی۔ جو پٹھان یو۔ پی۔ میں آباد ہوئے ان کی موحودہ نسل پشتو کا ایک جملہ بھی نہیں بول سکتی اور نہ افغانستان میں اس کی رشتہ داریاں ہیں۔
سندھ میں آ کر آباد ہونے والوں میں سے اکثر نے دونوں کام نہیں کیئے۔ سندھی سیکھنا اور بولنا ناپسند کیا جاتا تھا۔ شادی کے لیئے اپنوں میں رشتہ نہ ملتا تو ہندوستان میں رہ جانے والے رشتہ داروں میں تلاش کرتے۔ جب جنگوں کے نتیجہ میں آنا جانا مشکل ہو گیا تب یہ تلاش کم ہوئی۔
بہت سے مہاجر یو۔ پی۔ اور دلی سے پنجاب میں بھی آ کر آباد ہوئے۔ چونکہ کسی نے ان کے نام پر سیاست نہ چمکائی، اس لیئے نئی نسل ئے پنجابی سیکھ لی اور مقامی خاندانوں میں شادیاں کر لیں۔ یوں ان کی شناخت مقامی ہو گئی۔ پنجاب میں ویسے بھی لسانی یا نسلی تعصب نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی میں بھی یہ صورت حال نہ ہوتی، اگر مہاجر کے نام پر سیاست نہ کی جاتی۔ الطاف حسین نے 1978 میں مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائیزیشن اور 1984 مین مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے کسی نے مہاجروں کی الگ شناخت پر زور نہ دیا تھا۔ مہاجر کے مقابلہ میں پٹھان، بلوچ، وغیرہ کے نام پر بھی سیاست ہونے لگی۔ مل جل کر رہنے کی روائت مدھم پڑ گئی۔
سندھ کا صوبہ کسی نسل یا زبان کی بنا پر نہ بنا۔ دریا کے دونوں طرف بسنے والے سندھی کہلائے۔ اردگرد کے علاقوں سے بھی لوگ آ کر آباد ہوتے گئے۔ یہاں سید بھی ہیں، بلوچ بھی ہیں اور پٹھان بھی۔ کسی نے اپنی پچھلی شناخت پر زور نہ دیا اور سب مقامی آبادی میں گھل مل گئے۔ کیا جی۔ ایم۔ سید یا آصف علی زرداری کو غیرسندھی کہا جا سکتا ہے؟
اردو بولنا بھی شناخت نہیں بن سکتی کیونکہ یہ تو نہ صرف سارے ملک میں بلکہ بہت سے دوسرے ملکوں میں بھی بولی جاتی ہے۔ اسی بنا پر اب یہ دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔
مہاجر بننے اور بنے رہنے میں بڑا فرق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں نے جان ومال کی بڑی قربانیاں دیں لیکن جس سرزمین کے لیئے انھوں نے گھربار چھوڑا وہاں پہنچنے کے بعد بھی خود کو مہاجر کہنا اور کئی نسلوں تک کہتے رہنا بلاجواز تھا۔ چلیں پہلی نسل تو پچھلی یادیں اور باتیں کسی حد تک نہ بھلا پائی لیکن دوسری اور تیسری نسل تو یہیں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی۔ وہ مہاجر کیسے ہوئی؟ پچھلے دنوں کسی سندھی سیاست کار نے علیحدہ صوبہ کے بارے میں ٹیلی ویژن پر کہا، "مہاجروں کے لیئے صوبہ نہیں کیمپ ہوتا ہے۔"
مسئلہ کا حل یہ ہے کہ الطاف حسین ہمت کر کے م۔ ق۔ م۔ کو ختم کر دیں اور خود سیاست سے سبک دوش ہو جائیں۔ پارٹی کے ارکان کو نئی جماعت بنانے سے بھی منع کر دیں کہ پچھلا سب کچھ نئی پارٹی میں آ جائے گا اور نیا آغآز ممکن نہیں رہے گا۔ کسی نئی پارٹی میں شمولیت بہترین رستہ ہوگا۔
چونکہ مسلم لیگ کا نام ملک بھر میں مانوس ہے، اس لیئے "آل پاکستان مسلم لیگ" میں جوق در جوق شامل ہونا بہتر رہے گا۔ اس کا وجود اس وقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ فوری طور پر کھلے دل سے رکن سازی کریں، ہر ضلع میں اپنے انتخابات کرائیں اور پارٹی کو ملک کی ایک بڑی پارٹی بنا دیں۔ اگر پرویز مشرف اعتراض کریں کہ یہ پارٹی انھون نے بنائی تھی تو جواب دیں کہ جب ارکان عہدہ داروں کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی امیدوار بن جائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے سابق ارکان نئی پارٹی کو مستحکم کرنے کے لیئے سیاست میں لسانی، نسلی، قبائلی، صوبائی، علاقائی، فرقہ وارانہ اور دوسرے تعصبات کو ختم کرانے کے لیئے مہم شروع کریں۔ حکومت سے کہیں کہ ان تعصبات پر مبنی جماعتوں پر قانونی طور پر پابندی لگا دے اور الیکشن کمشن ایسی متعصب جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دے۔ صحیح رکن سازی اور شفاف الیکشن باقاعدگی سے کرانے سے امیج بہت بہتر ہوتا جائے گا۔
"مہاجر" کی اصطلاح ختم ہبو جانی چاہیئے۔ نئے اور پرانے سندھی کی بھی تخصیص نہیں ہونی چاہیئے۔ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب صوبے ہی ختم ہو جائیں اور سندھی کی بجائے سب پاکستانی کہلائیں۔ اس وقت بھی پنجاب کے رہنے والے اپنی شناخت پاکستانی کے طور پر کراتے ہیں اور اردو بولنے کو پنجابی پر ترجیح دیتے ہیں۔ ذرا گہرائی میں جائیں تو دراصل ہماری شناخت یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں جو پاکستان میں رہتے ہیں۔ اس پر اصرار کریں تو سب اختلافات ختم ہو جائین گے۔ نہ مہاجر رہے گا اور نہ سندھی۔
‏

بلی کو اونٹ کے ساتھ کیوں باندھتے ہیں؟

کسی اونٹ پالنے والے نے منت  مانی کہ اگر اس کا کام ہو گیا تو وہ ایک اونٹ دس روپے میں بیچ دے گا۔ کام ہو گیا۔ اب منت پوری کرنی تھی۔ اونٹ بہت قیمتی تھا۔ اس لیئے اتنا نقصان اٹھانا بھی آسان نہ تھا۔ اسے ایک چال سوجھی۔ اس نے ایک بلی کہیں سے پکڑ لی اور اونٹ کے ساتھ بازار لے گیا۔ اونٹ کے گلے میں لکھ کر لگا دیا کہ اس کی قیمت دس روپے ہے۔ گاہک آتا تو اسے کہتا، "اونٹ تو دس روپے ہی کا ہے لیکن بلی کی قیمت 50 ہزار روپے ہے۔ آپ کو دونوں کا پیکج لینا ہوگا۔"
اسی طرح کا پیکج کالج اور جامعات داخلہ کے امیدواروں کو بیچتے ہیں۔ طلبہ کو داخلہ فارم مفت ملا کرتا تھا۔ اب اسے پراسپیکٹس کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ طلبہ کو دونوں کا پیکج لینا پڑتا ہے، وہ بھِی چالیس پچاس میں نہیں، کئی سوروپے میں اور بعض اوقات ہزار دو ہزار روپے میں۔
چند ہفتوں میں کالجوں اور جامعات کے داخلے شروع ہونے والے ہیں۔ جن طلبہ کو یقین نہیں کہ انھیں پسند کے ادارہ میں داخلہ مل جائے گا، وہ کئی جگہ فارم جمع کرائیں گے۔ انھیں ہر جگہ "پیکج" خریدنا پڑے گا۔ یوں داخلہ ملے نہ ملے ہر طالب علم کے والد کو ہزاروں روپے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ امیدواروں کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ کالجوں اور جامعات کی کتنی چاندی ہوگی۔ دوسری طرف والدین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، وہ بھی بغیر کسی فائدہ کے۔
پہلے یہ رجحان نجی تعلیمی اداروں میں آیا۔ پھر اس کے جراثیم سرکاری اداروں میں بھی داخل ہو گئے۔ فیسوں کے بارے میں تو پوچھیں مت کہ تعلیم جو کبھی حکومت کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی، اب بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ امریکیوں نے ہمارے حکمرانوں کو سبق پڑھا دیا کہ جس طرح ہم کرتے ہیں آپ بھی کریں۔ تعلیم (اور صحت) کو عوام کا حق سمجھنا چھوڑ دیں، بلکہ اسے کمائی کا ذریعہ بنائیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جس کالج میں کسی زمانہ میں فیس 12 روپے ماہوار ہوتی تھی، اسی میں اب ہزاروں روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔
اخراجات کا بوجھ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ ہر فارم کے ساتھ کئی دستاویزات کی نقلیں لگانے کے لیئے کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی کسی گزیٹڈ افسر سے تصدیق ہونی چاہیئے۔ اگر طالب علم خود فارم جمع نہیں کرا سکتا تو رجسٹری ڈاک یا کوریئر کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔ یوں ہر فارم کے ساتھ اضافی خرچہ کرنا پڑتا ہے۔ جتنے اداروں میں داخلہ کی کوشش، اتنا ہی بوجھ۔۔ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں روپے ضرور خرچ ہو جاتے ہیں۔ جن طلبہ کو داخلہ نہیں ملتا، ان کے لیئے سراسر نقصان ہے۔
کالجوں اور جامعات کو اپنے آپ احساس نہیں ہوگا کہ وہ ان طلبہ سے بھی زیادتی کر رہے جنھیں انھوں نے داخلہ بھی نہیں دینا۔ وجہ یہ ہے کہ مفت کی آمدنی ترک کر دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔
مسئلہ کا حل یہ ہے کہ حکومت تمام سرکاری اور نجی کالج اور جامعات کے سربراہوں کو حکم دے کہ وہ فارم داخلہ کو پراسپیکٹس سے الگ کر دیں۔ جسے ادارہ کے بارے میں مزید معلومات میں دلچسپی ہو، صرف وہی پراسپیکٹس خریدے جبکہ فارم ہر امیدوار کو مفت دیا جائے۔ یہی فارم تعلیمی ادارہ کی اپنی ویب سائیٹ پر بھی دیا جائے تاکہ امیدوار کہیں بھی ہو ڈائون لوڈ کر کے پرنٹ نکالے اور پھر اسے پر کر کے کالج یا جامعہ کو ڈاک سے بھیج دے۔ داخلہ فارم تعلیمی ادارہ کی ویب سائیٹ پر جا کر آن لائیں پر کرنے کی بھی سہولت ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی یہ فارم چھاپ کر دستیاب کر سکے تاکہ طلبہ کو فارم لینے میں دقت نہ ہو۔ وہ دو تین روپے دے کر کہیں سے بھی خرید لیں۔ اس طرح کے فارم کچہریوں میں عام طور پر فروخت ہوتے ہیں۔ ٹیوشن پڑھانے والی اکیڈمیاں اپنے طلبہ کو فارم دے سکتی ہیں۔ (وہاں طلبہ داخلہ میں کامیابی ہی کے لیئے تو ٹیوشن لیتے ہیں۔) طلبہ تنظیمیں بھی یہ فارم مفت تقسیم کر سکتی ہیں۔
حکومت کو ایک اور ہدائت دینی ہوگی کہ تمام کالجوں اور جامعات کے لیئے داخلہ فارم ایک ہی ڈیزائین کا ہو۔ اس کا سائیز اے-4 ہونا چاہیئے تاکہ اسے فائل کور میں آسانی سے لگایا جا سکے اور لفافہ میں بھی بھیجا جا سکے۔ فارم میں طالب علم کے تمام کوائف درج کر نے کے لیئے جگہ ہونی چاہیئے۔ کوائف میں یہ شامل ہوں: طالب علم کا نام، شناختی کارڈ نمبر، (اگر ہو)، والد کا نام، والد کا پیشہ یا عہدہ، موجودہ رہائش کا پورا پتہ، رابطہ کے لیئے فون نمبر، طالب علم کا ای میل پتہ، پیدائش کی تاریخ اور جگہ، نویں جماعت اور اس کے بعد جو بھی امتحان پاس کیئے ہوں، ان کے مضامین، ہر مضمون میں حاصل کردہ نمبر، سکول یا کالج کا نام جہاں سے امتحان پاس کیا، اضافی قابلیت، جن کھیلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہو، ان کی تفصیل، اگر والد، والدہ، بھائِی یا بہن نے ادارہ میں تعلیم حاصل کی ہو تو اس کا نام، سال، ڈگری یا پاس کردہ امتحان کی تفصیل، طالب علم کے ذاتی مشغلے، وغیرہ۔ اگر کسی تعلیمی ادارہ کو مزید کوائف درکار ہوں تو وہ داخلہ کے بعد طلبہ سے لے سکتا ہے۔
امیدواروں کو ہدائت کی جائے کہ وہ فارم کے ساتھ کوئی دستاویز یا کسی دستاویز کی کاپی نہ بھیجیں۔ جنھیں داخلہ مل جائے، انھیں تمام مطلوبہ دستاویزوں کی نقلیں جمع کرانے کے لیئے کہا جائے۔ اگر نقلوں کی تصدیق کرانی ہو تو کسی اوتھ کمشنر یا نوٹری پبلک سے کرانے کے لیئے کہا جائے۔ وہ نقل مطابق اصل ہونے کی تصدیق کے بعد اپنی مہر لگائے اور دستخط کر دے۔ حکومت نے انھیں دستاویزوں کی تصدیق کے لیئے ہی لائسنسن دیا ہوتا ہے۔ گزیٹڈ افسر سے تصدیق کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اکثر طلبہ کی کسی افسر سے جان پہچان نہیں ہوتی۔ چنانچہ انھیں پی۔ اے۔ کی مٹھی گرم کر کے کام کرانا پڑتا ہے۔
داخلہ کے لیئے صرف ایک ہی قسم کا فارم مقرر کرنا اور دستاویزات کے بغیر فارم لینا کوئی نہیں بات نہیں ہوگی۔ مرکزی حکومت کے ایسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی تمام سرکاری دفتروں اور اداروں کو ہدائت ہے کہ ملازمت کے امیدواروں کو صرف ایک فارم پر کر کے بھیجنے کے لیئے کہا جائے۔ اس کے ساتھ کوئی دستاویز لگانے کے لیئے نہ کہا جائے۔ اس میں مصلحت یہ ہے کہ ملازمت کے امیدوار ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں ہوتے ہیں جب کہ ملازمتیں عام طور پر سینکڑوں میں ہوتی ہیں۔ یوں ناکام امیدواروں کو دستاویزوں کی کاپیاں کرانے، ان کی تصدیق کرانے اور ارسال کرنے پر بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، جب کہ ناکام امیدواروں کے کاغذات ردی میں بیچ دیئے جاتے ہیں۔ پھر امیدوار کو صرف ایک جگہ ہی نہیں، ملازمت ملنے تک بے شمار جگہوں پر درخاست دینی پڑتی ہے۔ صرف فارم بھیجنے سے بڑی سہولت ہو جاتی ہے۔
ایسی ہی پالیسی تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیئے نافذ کر دی جائے تو طلبہ فارم اور پراسپیکٹس کا پیکج خریدنے پر مجبور نہیں ہونگے۔ اونٹ پالنے والے کا پیکج تو ہو سکتا تھا، تعلیم دینے والوں کا نہیں ہونا چاہیئے۔
27 جون 2013

Tuesday, August 20, 2013

آواز اور تصویر کا ملاپ ہونا چاہیئے

ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم کی حیثیت سے جو چاہتے کر گزرتے۔ لیکن پاکستان ٹیلی ویژن والوں نے ایسا چکر چلایا کہ اپنے معاملہ میں ان کی نہ چلنے دی۔
جب پاکستان ٹیلی ویژن نے 1964 میں نشریات شروع کیں تو بھٹو ایوب خاں کی کابینہ میں وزیر تھے۔ جب وہ دسمبر 1971 میں خود برسراقتدار آئے تو ٹیلی ویژن ابھی پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ چنانچہ ان کا عوام سے پہلا خطاب چک لالہ میں ایک بیرک سے ہوا، جہاں ان دنوں پاکستان ٹیلی ویژن کا "راولپنڈی – اسلام آباد مرکز" کام کر رہا تھا۔
بھٹو نے فیصلہ کیا کہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کو ملا کر ایک ادارہ بنا دیا جائے۔ اس کا نام "پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن" تجویز کیا گیا۔ ابتدائی کاروائی ہو رہی تھی کہ پاکستان ٹیلی ویژن والوں نے کچھ ایسا کیا کہ ادغام ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بعد میں کسی حکومت نے اس پر توجہ نہ دی۔
جس ملک میں ریڈیو پہلے سے موجود تھا، وہاں ٹیلی ویژن کو اس کا حصہ بنایا گیا۔ بعد میں ٹیلی ویژن کا دائرہ بہت بڑھ گیا تو بھی انتظامی طور پر دونوں ایک ہی ادارہ میں رہے۔ ہمارے ہاں ریڈیو سرکاری محکمہ کے طور پر چلایا جا رہا تھا جبکہ ٹیلی ویژن کے لیئے کارپوریشن بنا دی گئی۔ پھر بھی دونوں کو ایک کرنا اتنا مشکل نہ تھا۔ تاہم مشکلات کا عذر تراش کر ادغام رکوا دیا گیا۔ صرف اتنا ہوا کہ ریڈیو پاکستان کا نام پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ہو گیا۔
مسئلہ کا حل یہ ہے کہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی تشکیل نو کی جائے اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن اس کے دو ڈویژن ہوں۔ ادغام ابتدا میں بالائی سطح پر ہو، یعنی دونوں کا ایک ہی بورڈ اور ایک ہی چیئرمین ہو۔ ان کے نیچے ایک ایم۔ ڈی۔ اور چیف ایڈیٹر ریڈیو کے لیئے اور دوسرے ٹیلی ویژن کے ہوں۔ دونوں ڈویژنوں کا ایک کیڈر ہو۔ جو موجودہ ملازم اسے قبول کریں ان کا تبادلہ ایک ڈویژن سے دوسرے میں ہو سکے۔ جو قبول نہ کریں وہ سبک دوشی تک وہیں کام کرتے رہیں جہاں ہیں۔ وقت کے ساتھ کیڈر کو قبول کرنے والوں سبھی ہو جائیں گے۔ دونوں ڈویژنوں کی انتظامیہ میں بھی ہم آہنگی آتی جائے گی۔
ادغام کے بڑے فائدے ہوں گے۔ کچھ کا ذکر ہم کر دیتے ہیں:
اول، دونوں کے رپورٹر ملا کر مجموعی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔ ایک ہی رپورٹر آڈیو اور ویڈیو میں خبریں دیا کرے گا۔ ریڈیو کے رپورٹروں کو بھی تھوڑی سی تربیت سے اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ کم از کم گزارہ لائق ویڈیو بنا کر بھیج سکیں۔ اس طرح زیادہ مقامات سے خبریں آنے لگیں گی۔
دوم، ریڈیو پاکستان کے تمام سٹیشنوں ہی میں ٹیلی ویژن کے بھی مرکز بن سکتے ہیں۔ یہاں سے صبح سے سہ پہر تک مقامی دلچسپی کی نشریات ہو سکتی ہیں۔ عمارت تو پہلے سے موجود ہوگی اور ٹرانسمٹر کے لیئے ٹاور بھی۔ صرف ایک چھوٹا سا سٹوڈیو بنانا ہوگا۔ چونکہ اس وقت ریڈیو سٹیشن 20 سے زیادہ ہیں، ٹیلی ویژن مرکزوں کی تعداد بھی بہت کم خرچ سے کئی گنا ہو جائے گی۔ مقامی نشریات بڑی دلچسپی سے دیکھی جائیں گی۔
سوم، بہت سے مقامی فنکار چھوٹے مرکزوں تک آسانی سے پہنچ سکیں گے، جہاں ان کی آڈیشن اور ابتدائی تربیت ہو جائے گی۔ جن میں صلاحیت زیادہ ہوگی وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے بڑے مرکزوں پر جا سکیں گے۔
چہارم، ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھنے والوں اور ڈراموں میں کام کرنے والوں کی پہلی تربیت ریڈیو پر ہوگی۔ یہاں وہ آواز کے زیر و بم اور تلفظ سیکھیں گے۔ جب آواز پر پورا عبور ہو جائے گا تو ٹیلی ویژن پر کام کرنا آسان ہو جائے گا۔
پنجم، ہر قسم کی تقریبات کی رکارڈنگ کے لیئے ایک ہی ٹیم کافی ہوگی۔ بیرونی دوروں پر صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ بھی ایک ہی ٹیم جایا کرے گی۔ کھیلوں کے لیئے بھی یہی صورت ہوگی۔
ششم، ٹیلی ویژن کی آواز کو ریڈیو بہت دور تک لے جا سکتا ہے۔ ہر ٹیلی ویژن مرکز اپنی آڈیو کی موجودہ فریکوئنسی کے ساتھ ریڈیو کی ایف ایم کی آڈیو فریکوئںسی بھی الاٹ کرا سکتا ہے، اسے ریلے کرنے کے لیئے ریڈیو کے ٹرانسمٹروں کے ساتھ ٹیلی ویژن کے ایف ایم ٹرانسمٹر لگائے جا سکیں گے۔ اس طرح کار میں سفر کرنے والے، لوڈ شیڈنگ کے مارے ہوئے اور دوردراز علاقوں کے رہائشی اپنے ریڈیو پر کم از کم ٹیلی ویژن کی آواز سن سکیں گے۔ ریڈیو بوسٹر کے ساتھ ٹیلی ویژن بوسٹر بھی لگائے جا سکیں گے۔
ہفتم، ٹیلی ویژن کی آمدنی سے ریڈیو کے اخراجات بھی پورے ہو جایا کریں گے۔ اس وقت ٹیلی ویژن لائسنسن فیس بھی لیتا ہے اور اشتہارات بھی، جبکہ ریڈیو کی لائسنس فیس عرصہ ہوا ختم کی جا چکی ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیئے حکومت امداد دیا کرے، جیسے نئی عمارت، نئی مشینری، نئے مرکز۔
ہشتم، پاکستان ٹیلی ویژن اپنا ذیلی ادارہ،۔ شالیمار ٹیلی ویژن نیٹ ورک، جو ٹھیکہ پر دے دیا گیا تھا، واپس لے سکتا ہے اور اس کے سٹیشنوں سے تیسری چینل چلائی جائی سکتی ہے۔ انھی سٹیشنوں سے ریڈیو کے نئے چینل شروع کیئے جا سکتے ہیں۔ یہ سب زمینی سٹیشن ہیں، جو کیبل کے بغیر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سیٹلائیٹ کی ضرورت نہ ہونے کی بنا پر بہت کم خرچ سے چینل چلائی جا سکتی ہے۔
نہم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ایم۔ ڈی۔ صرف انتظامی اور فنی امور دیکھیں گے جبکہ چیف ایڈیٹر نشر ہونے والے مواد پر نظر رکھے۔ چیف ایڈیٹر صاحب ذوق و ادب ہوگا، جس کی توقع انتظامی افسروں سے نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح، خبریں، تبصرے، ڈرامے، موسیقی، غرض جو کچھ بھی نشر ہوگا اعلا معیار کا ہوگا۔ چیف آیڈیٹر اور اس کا ماتحت عملہ کسی ایم۔ ڈی۔ کے ماتحت کسی انتظامی عہدہ پر متعین نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ اس کے اہل نہیں ہوں گے۔ ہر ایک کا ذاتی سکیل ہوگا، جس میں ہر سال خود بخود ترقی ملتی جائے گی۔ ترقی نہ بھی ہو تو بھی فرق نہیں پڑے گا۔

آواز اور تصویر کا ملاپ نہ صرف دونوں اداروں کے فائدہ مند ہوگا بلکہ عوام کو بھی نہائت اعلا معیار کی نشریات ملیں گی، جس کی توقع نجی چینلوں سے نہیں کی جا سکتی۔
18 اگست 2013

علم کے کنویں کو پیاسوں تک کیسے لے جائیں

غالب نے کہا تھا، "بے درودیوار کا اک گھر بنایا چاہیئے۔" غالب کی خاہش تو پوری نہ ہو سکتی تھی لیکن آج کے دور میں جس طرح کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے بہت سے کاموں میں ہمیں زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیا، اسی طرح ان کی مدد سے بے درودیوار کی جامعہ ضرور بنائی جا سکتی ہے۔ یہ جامعہ اپنے کنویں کو علم کے پیاسوں کے گھروں تک لے جائے گی۔
آغاز اس طرح ہو کہ اعلا تعلیم کمشن تمام تسلیم شدہ سرکاری و غیرسرکاری یونیورسٹیوں کو پابند کرے کہ وہ جو ڈگری کورس طلبہ کو اپنے کیمپس میں پڑھائیں، بالکل وہی آن لائین بھی آفر کریں۔ جب احساس ہو کہ کیمپس میں جا کر پڑھنے والوں کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ اتنی کم ہو گئی ہے کہ اب وہاں تعلیم جاری رکھنا مالی طور پر ممکن نہیں رہا تو جامعات صرف آن لائین کورس ہی پڑھائیں۔ اس وقت عمارتوں کی کمی کی بنا پر زیادہ طلبہ داخل نہیں ہو سکتے۔ مجوزہ صورت میں طلبہ کی تعداد لامحدود ہو جائے گی۔ فاصلاتی تعلیم، جو اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی دے رہی ہیں، سب جامعات سے ملنے لگے گی۔ اس طرح ملازمت کرنے والوں کے لیئے بھی مزید تعلیم حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
جامعات اپنے استادوں کے لیکچر اور دوسرا تعلیمی مواد رکارڈ کرنے اور اسے انٹرنیٹ پر دستیاب کرنے کے لیئے نجی شعبہ سے ضروری سہولتیں حاصل کریں گے۔
طلبہ داخلہ کے لیئے آن لائین فارم میں تمام کوائف درج کریں گے۔ جو جامعہ کے معیا پر پورے اتریں انھیں داخلہ مل جائے گا۔ لیپ ٹاپ سپلائی کرنے والی کمپنیوں سے معاہدے کیئے جائیں گے تاکہ وہ ملک بھر میں اپنے مقامی ڈیلروں کے ذریعہ داخلہ پانے والے طلبہ کو لیپ ٹاپ قسطوں پر مہیا کریں۔ قسط میں لیپ ٹاپ کی دیکھ بھال، مرمت اور براڈبینڈ انٹرنیٹ کنیکشن کا خرچ شامل ہوگا۔ قسطوں کی وصولی ڈیلروں کے ذریعہ ہوگی تاکہ وہ سروس دینے میں کوتاہی نہ کریں۔ قسطیں ڈگری کورس مکمل ہونے تک ادا کی جاتی رہیں گی۔ طالب علم کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی کمپنی کے ڈیلر سے لیپ ٹاپ لے۔
جامعہ استادوں سے کہے گی کہ وہ اپنے اپنے مضمون کے لیکچر تیار کریں۔ مضمون کا نصاب وہی ہوگا جو اعلا تعلیم کمشن نے مقرر کیا ہو۔ لیکچر دینے والے کی شکل ابتدائی چند منٹ کے بعد دکھائی نہ دے۔ اس کی جگہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر نقشے، خاکے، تصویریں، ویڈِیو، وغیرہ نظر آئیں گے تاکہ لیکچر بہتر طور پر سمجھ میں آ سکے۔ آخر میں مزید مطالعہ کے لیئے اضافی مواد کی نشاندہی ہوگی، جو اعلا تعلیم کمشن کی ویب سائیٹ پر تمام جامعات کے طلبہ کے لیئے بلا قیمت دستیاب ہوگا۔ اس میں جرنل اور کتابیں بھی شامل ہوں گی۔ اس وقت بھی اعلا تعلیم کمشن کی طرف سے ہزارہا جرنل اور کتابیں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔
ہر طالب لیپ ٹاپ پر روزانہ لیکچر سنا کرے گا۔ اس کے بعد لیکچر میں تجویز کیئے گئے اضافی مواد کا مطالعہ کرے گا۔ ہر لیکچر کے آخر میں سوالات ہوں گے، جن کے جواب دینے سے معلوم ہوگا کہ طالب علم لیکچر کہااں تک سمجھ سکا ہے۔ جوابات انٹرنیٹ کے ذریعہ چیک کیئے جائیں گے۔ اگر جوابات غیرتسلی بخش ہوں گے تو طالب سے لیکچر دوبارہ سن کر جوابات دینے کے لیئے کہا جائے گا۔ اگر لیکچر میں کوئی بات واضح یا درست نہ ہو تو طالب اس کی نشان دہی کر سکے گا۔ لیکچر دینے والا استاد جواب دینے کا پابند ہوگا۔
طلبہ جامعہ کو معمولی ماہانہ فیس ادا کیا کریں گے، جو اعلا تعلیم کمشن طے کرے گا۔ یہ فیس بظاہر بہت کم لیکن درحقیقت کافی ہوگی۔ ہر مضمون کے استاد کو اس کے لیکچروں پر رائلٹی ملا کرے گی۔ اگر فی طالب دس روپے ملیں اور جامعہ کے 10 ہزار طلبہ اس کا لیکچر سنیں تو اسے ایک لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے۔ اگر اس کے لیکچر دوسری جامعات بھی اپنے طلبہ کو دیں تو رائلٹی اسی حساب سے بڑھ جائے گی۔ لیکچر تو ایک ہی دفعہ رکارڈ ہوں گے۔ اس کے بعد استاد انھیں طلبہ کی رائے کے مطابق  جاءے ھبہتر اور زیادہ واضح بنائے گا۔ وہ ریسرچ کر کے تازہ ترین معلومات شامل کرتا رہے گا۔ مفید اضافی مواد کی نشاندہی بھی کرتا رہے گا۔ جامعہ سائنسی تجربات کے لیئے کسی نزدیکی ڈگری کالج یا جامعہ کی لیب میں انتظام کرائے گی۔
اگر کسی جامعہ کے طلبہ اتنے کم ہوں کہ ان کی فیس اس کے اخراجات کے لیئے ناکافی ہو تو وہ یا تو زیادہ طلبہ کو داخلہ کے لیئے راغب کرے گی، کسی اور جامعہ مِیں مدغم ہو جائے گی یا بند کر دی جائے گی۔ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب جامعات کے ادغام سے ڈگری کورسوں کے لیئے ایک ہی جامعہ وجود میں آ جائے۔ باقی جامعات صرف ایم۔ فل۔ اور پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کے لیئے مخصوص ہو جائیں۔
جامعہ ہر مضمون کے لیئے استاد رکھے گی۔ وہ ہر لیکچر کے بارے میں طلبہ کے سوالوں کے جوابات ای میل سے دیا کریں گے۔ اگر بہت ضروری ہو تو سکائیپ، گوگل، وغیرہ کے ذریعہ سوال جواب ہو سکیں گے، جن پر کال کا کوئی خرچ نہ ہوگا۔ تاہم ایک وقت میں زیادہ کالیں سننا ممکن نہ ہوگا۔ جامعہ کے استاد اپنے اپنے شعبہ کے طلبہ کے لیئے تحقیقی مضامین بھی لکھا کریں گے اور انھیں ای میل سے بھیجا جائے گا یا جامعہ کی ویب سائیٹ پر رکھا جائے گا۔ اس طرح ریسرچ جرنل چھاپنے اور طلبہ تک پہنچانے کے اخراجات نہیں ہونگے۔ وہ اسی طرح تحقیقی کتابیں بھی لکھ کر مہیا کریں گے۔

طلبہ اپنی سہولت کے مطابق گھر بیٹھے وہی تعلیم حاصل کریں گے، جن کے لیئے انھیں اس وقت جامعہ جانا پڑتا ہے، ہزاروں روپے ماہانہ فیس دینی پڑتی ہے، درسی کتابیں خریدنی پڑتی ہیں، سینکڑوں روپے آنے جانے پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح اعلا تعلیم اتنی سستی اور آسان ہو جائے گی کہ نہ طلبہ کو وظائف دینے کی ضرورت رہے گی، نہ حکومت کو اعلا تعلیم کے لیئے امداد دینی ہوگی۔ یوں کنواں چل کر علم کے تمام پیاسوں تک پہنچے گا۔ صرف پیاس شرط ہوگی۔ 
21 اگست 2013

Monday, August 12, 2013

اثاثوں کی اصل مالیت کیسے ظاہر کرائی جائے

الیکشن کمشن اسمبلیوں کے ارکان سے ہر سال اثاثوں کے گوشوارے طلب کرتا ہے۔ گوشوارے جمع نہ کرائے جائیں تو رکنیت معطل کی جا سکتی ہے۔ لیکن ارکان اثاثوں کی تفاصیل سے قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ الیکشن کمشن کے لیئے بھی ممکن نہیں کہ وہ ایک ایک اثاثہ کی پڑتال کرے اور اس کی صحیح مالیت کا تعین کرے۔ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ الیکش کمشن اثاثوں کے بارے میں سچ اگلوانے کے لیئے ایک ایسا طریقہ اپنائے، جس سے مقصد صحیح طور پر پورا ہو جائے۔
کمشن ہر رکن کے اثاثوں کا گوشوارہ پورے کا پورا اپنی ویب سائیٹ پر ڈال دے۔ اس کے بعد دعوت عام دے کہ جو شہری سمجھتا ہے کہ کسی اثاثہ کی حقیقی مالیت ظاہر نہیں کی گئی وہ اسے خریدنے کی پیشکش کر دے۔ وہ ظاہر کردہ مالیت سے کم از کم 20 فی صد زیادہ دینے کو تیار ہو تو مرکزی حکومت رقم کی وصولی کے بعد اس کے نام منتقلی کا حکم جاری کر دے۔ وہ یہ حکم نامہ دکھا کر ضلع کچہری میں اپنے نام رجسٹری کرا لے۔ مالیت بہت کم ظاہر ہونے کی بنا پر کئی لوگ اثاثہ خریدنے کی خاہشمند ہوں گے۔ ایسی صورت میں کھلے عام بولی لگائی جائے۔ جو سب سے زیادہ بولی دے، اثاثہ اس کے نام کر دیا جائے۔ بولی میں جو زیادہ سے زیادہ قیمت لگے اس میں سے رکن اسمبلی کی ظاہر کردہ مالیت اسے دے دی جائے اور باقی رقم سرکاری خزانہ میں جمع کرا دی جائے۔ اگر ایسا اثاثہ نکل آئے جو ظاہر نہ کیا گیا ہو وہ ویسے ہی ضبط کر لیا جائے۔
ممکن ہے کہ رکن اسمبلی ظاہر کردہ مالیت سے 20 فی صد زیادہ رقم دے کر خود ہی خریدنا چاہے۔ اول تو اس کی کامیابی کا امکان کم ہے کیونکہ کہیں زیادہ رقم دینے والے کئیِ لوگ ہوں گے۔ پھر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے کہ رکن اسمبلی خود یا اس کا کوئی قریبی عزیز نہ خرید سکے۔ اس طرح جو بھی خریدے گا وہ ادا کردہ قیمت سے کم پر رکن اسمبلی کو اثاثہ منتقل نہیں کر سکے گا۔
جب ارکان اسمبلی اثاثے ہاتھ سے جاتے رہنے کے ڈر سے گوشوارہ میں اصل قیمت دکھائیں گے تو ان کے لیئے ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ ایف۔ بی۔ آر۔ (فیڈرل بیورو آف ریونیو) نوٹس جاری کر کے پوچھے گا کہ اثاثوں پر کتنا ٹیکس دیا گیا۔ اگر پورا ٹیکس دیا بھی گیا تو وہ ثبوت مانگے گا کہ اثاثہ واقعی جائز آمدنی سے خریدا گیا تھا۔ اگر کالا پیسہ تھا تو اس پر ٹیکس مع جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
اثاثے ظاہر کرنے کی پابندی سرکاری ملازموں پر بھی ہے۔ ان کے گوشوارے بھی ایف۔ بی۔ آر۔ کی ویب سائیٹ پر ڈال دیئے جائیں۔ ارکان اسمبلی کے اثاثوں کی طرح سرکاری ملازموں کے اثاثے خریدنے کے لیئے بھی دعوت عام دی جائے۔ جو سب سے زیادہ بولی لگائے یا کم از کم ظاہر کردہ مالیت سے 20 فی صد زیادہ دے، اثاثہ اس کے نام منتقل کر دیا جائے۔
ایک قدم اور اٹھا کر تمام انکم ٹیکس دینے والوں کو بھی دائرہ اختیار میں لایا جائے۔ انکم ٹیکس کے ساتھ جمع کرایا گیا اثاثوں کا گوشوارہ بھی ویب سائیٹ پر ڈال دیا جائے اور اسے خریدنے کے لیئے بھی دعوت عام دی جائے۔
پوری مالیت ظاہر نہ کرنے والے اثاثے چھپانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ وہ اثاثہ کسی اور کے نام کرا سکتے ہیں۔ اسے "بے نامی" کہتے ہیں، یعنی اثاثہ کا اصل مالک کوئی اور ہے لیکن نام کسی اور کے ہو۔ اس پر بھی گرفت ہو سکتی ہے۔ اگر دس ملین روپے کی کوٹھی کسی کے نام ہے اور وہ 30 ہزار روپے ماہانہ پر ملازم ہے تو ظاہر ہے یہ بے نامی کا کیس ہے۔ ایف۔ بی۔ آر۔ بے نامی مالک سے پوچھ سکتا ہے کہ اثاثہ خریدنے کے لیئے رقم کہاں سے آئی۔ جواب تسلی بخش نہ ہو تو اثاثہ ضبط کر لیا جائے۔
شہری جائداد کی خریداری پر پورا ٹیکس وصول کر کے بھی کثیر آضافی آمدنی ہو سکتی ہے۔ دیہات میں زرعی اراضی کے لیئے حق شفع کا قانون ہے۔ کوئی قریبی رشتہ دار یا ساتھ والی اراضی کا مالک عدالت میں دعوی کر سکتا ہے کہ اس کا خریداری کا حق فائق ہے اور وہ اراضی کی اتنی ہی قیمت دے کر خریدنا چاہتا ہے۔ قانون کا مقصد یہ تھا کہ باہر سے آ کر کوئی شخص اراضی نہ خرید سکے کیوں ایک اجنبی کو گائوں والے ممکن ہے اپنے درمیان برداشت نہ کریں۔ چنانچہ حق شفع روکنے کے لیئے خریدار کم کی بجائے اصل سے بھی زیادہ قیمت انتقال یا رجسٹری میں لکھواتے ہیں!
اسی طرح کا حق شفع کا قانون شہری جائداد کے لیئے بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں رشتہ دار یا ہمسایہ ہونے کی شرط نہ ہو۔ کوئی بھی شخص دعوی کر سکے کہ جس قیمت پر کوئی جائداد فروخت کی گئی ہے وہ اس سے 20 فی صد زیادہ دے کر خریدنا چاہتا ہے۔ اس طرح اگر کوئی جائداد بیچنے والا ٹیکس بچانے کے لیئے رجسٹری کراتے ہوئے جائداد کی قیمت کم ظاہر کرے تو خریدار کو دھڑکہ لگا رہے گا کہ کوئی اور حق شفع استعمال کر کے نہ خرید لے۔ چنانچہ رجسٹری میں قیمت اصل سے زیادہ لکھوائی جائے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ حق شفع کا دعوی کرنے والا تو شائد سامنے نہ آئے لیکن حکومت کو ٹیکس جائیداد کی حقیقی مالیت پر ملے گا جو اس وقت ملنے والے ٹیکس سے کہیں زیادہ ہوگا۔
مجوزہ حل سے کئی فائدے ہوں گے:
1 ارکان اسمبلی، سرکاری ملازموں اور عام انکم ٹیکس گزاروں کے گوشواروں کی اصل مالیت ظآہر ہونے سے سینکڑوں بلین روپے کی اضافی آمدنی ہوگی، چاہے نیلامی سے ہو یا اضافی ٹیکس سے۔
2 کسی کے لیئے اثاثوں کی اصل مالیت چھپانا ممکن نہیں رہے گا اور چھپا بھی لی تو بھاری نقصان ہوگا۔
3 کوئی اثاثہ ظاہر نہ کیا گیا تو ضبط ہو جائے گا۔
4 کالے پیسہ سے بنائے گئے اثاثے ضبط کیئے جا سکیں گے کیونکہ اس پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہوگا یا قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہوگئی۔ 
13 اگست 2013

صحیح طریقہ عوام کی شکایات دور کرنے کا

کسی پڑھے لکھے دیہی نوجوان کو تھانیدار نے کسی وڈیرہ کے کہنے پر بلاقصور چھترول کر دی۔ نوجوان اور تو کچھ نہ کر سکا وزیر اعلی کے نام درخاست دے دی، جس میں تفصیل لکھنے کے بعد تھانیدار کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ درخاست صوبائی پولیس افسر (آئی۔ جی۔) سے ہوتے ہوئے اسی تھانیدار کے پاس "مناسب کاروائی کے لیئے" پہنچ گئی۔ اس نے نوجوان کو بلایا اور درخاست دکھا کر کہا، "بتائو، اب تمھارے ساتھ وہی سلوک کروں جو پہلے کیا تھا؟" نوجوان حیران بھی تھا اور پریشان بھی۔ وہ تو سوچ رہا تھا کہ تھانیدار کی معطلی کا حکم آئے گا۔ پھر انکوائری ہوگی، جس مین اسے بیان دینے کے لیئے بلایا جائے گا۔ آخر میں ایک شریف اور بے قصور شہری پر بلاجواز تشدد کرنے کی بنا پر تھانیدار کو برخاست کر دیا جائے گا۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا۔ تھانیدار نے مزید کچھ کرنے کی بجائے نوجوان سے کہا، "اپنی درخاست پر لکھ کر دو کہ تھانیدار نے مجھے مطمئن کر دیا ہے۔ اب میری شکائت پر مزید کاروائی نہ کی جائے۔" نوجوان بھاری قدموں سے چلتے ہوئے جانے لگا تو تھانیدار نے کہا، "آئندہ اگر کوئی شکائت ہو تو سیدھے میرے پاس آنا۔ افسران بالا کو زحمت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔"
سرکاری اہل کاروں کے خلاف شکائتوں پر عام طور پر ایسی ہی کاروائی ہوا کرتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی حکمران خود کو خادم خلق ثابت کرنے کے لیئے شکائت سیل کھول دیتا ہے۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ شکائتیں لے کر آنے لگتے ہیں۔ میڈیہ کے لوگ پاس بیٹھ جاتے ہیں اور عوامی دلچسپی کی شکایات کی خبریں بناتے رہتے ہیں۔ اہل کار ہر درخاست کو متعلقہ محکمہ یا شعبہ کو مارک کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اہل کاروں کو پتہ نہیں چلتا کہ اس پر کیا کاروائی ہوئی۔ انھیں تو نئی درخاستوں کا ڈھیر نپٹانے ہوئے سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔ کچھ عرصہ کے بعد شکایات سیل بند کر دیا جاتا ہے۔
اصل میں مسئلہ درخاست کاغذ پر لکھے جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی افسر کے لیئے ممکن نہیں کہ وہ کاروائی کے لیئے نیچے بھیجی جانے والی ساری درخاستوں کا رکارڈ اور ان کی نقلیں اپنے دفتر میں رکھے۔ چنانچہ اصل درخاست ہی چلتی جاتی ہے، جب تک چل پائے۔ راستہ میں کوئی اسے گم کر دے تو سائل کی بدقسمتی۔
مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کاغذ پر لکھی درخاست وصول ہی نہ کی جائے۔ ایک اندازہ کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد 30 ملین کے قریب ہیں۔ یہ تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ بہت سے عرضی نویسوں کے پاس بھی کمپیوٹر ہیں۔ کوئی نہ کوئی جاننے والے بھی آسانی سے مل سکتا ہے  جس کے پاس کمپیوٹر ہو۔ چنانچہ اگر درخاستیں صرف ای میل سے یا ویب سائیٹ پر آن لائین وصول کی جائیں گی تو سائلوں کو زیادہ زحمت نہیں ہوگی۔
ضرورت الیکٹرانی درخاستوں پر الیکٹرانی طریقہ سے کاروائی کرنے کی ہے۔ یہ کس طرح ہوگا؟ ہر وزیر اعلا کے دفتر میں شعبہ شکایات کھولا جائے، جو شکایات صرف اپنے ای میل پتہ پر وصول کیا کرے۔ فرض کریں کہ اس بار کوئی پڑھا لکھا دیہاتی اپنے تھانیدار کے خلاف درخاست بھیجتا ہے۔ شعبہ شکایات خودکار طریقہ سے درخاست پر نمبر لگاتا ہے اور کاروائی رپورٹ پہنچانے کی آخری تاریخ لکھتا ہے۔ ایک کاپی صوبائی پولیس افسر کو ای میل سے بھیجتا ہے اور دوسری سائل کو۔ صوبائی پولیس افسر کے دفتر میں شکایات نپٹانے والا شعبہ درخاست کو متعلق ضلع پولیس افسر کو بھیجتا ہے اور مقررہ دنوں میں کاروائی کی رپورٹ طلب کرتا ہے۔ ضلع پولیس افسرون تک تو سب کے پاس کمپیوٹر ہونگے اور ای میل بھی۔ اس سے نیچے ابھی وقت لگے گا۔ چنانچہ ضلع کا شعبہ شکایات ہر شکائت اور اس پر ضلع پولیس افسر کے حکم کا پرنٹ نکال کر متعلق تھانیدار کو بھیجے گا اور مقررہ دنوں میں کاروائی اور اس کی مفصل رپورٹ بھیجنے کے لیئے کہے گا۔ ایک نقل ڈی ایس پی کو بھی بھیج جائے گی۔
تھانیدار سائل کو تو گولی دے سکتا ہے لیکن افسران بالا کو نہیں کیونکہ غلط بیانی پر وہ برخاست ہو سکتا ہے۔ تحریری رپورٹ ضلع افسر کو جائے گی تو وہ ای میل سے صوبائی افسر کو بھیج دے گا، جہاں سے ای میل سے ہی وزیر اعلا کے دفتر جائے گی۔ سارے عمل کا رکارڈ کمپیوٹر میں ہوگا۔ اس طرح نہ فائل گم ہوگی اور نہ درخاست ضائع ہوگی۔ اگر کاروائی پوری طرح نہ ہوئی یا بروقت مکمل نہ ہوئی تو رپورٹ ہوگی۔
پولیس ہی کی طرح، دوسرے محکموں کے بارے میں شکایات بھی پہلے محکمہ کے سکیرٹری کو اور وہاں سے اس کے ضلعی افسر کے پاس جائے گی۔ وہ نیچے سے رپورٹ لے کر سیکرٹری کو بھیجے گا، جو اسے وزیر اعلا کے دفتر پہنچائے گا۔ ہر محکمہ کا سربراہ ہر شکائت پر بروقت تسلی بخش کاروائی کرانے کا ذمہ دار ہوگا۔ اگر کاروائی مکمل نہ ہو یا غیرضروری تاخیر ہو تو وزیر اعلا کو رہورٹ دی جائے گی۔ وزیر اعلا کی پرسش پر سیکرٹری اپنی سبکی کی سزا ان ماتحتوں کو دے گا، جنھون نے تسلی بخش کاروائی نہ کی یا غیرضروری تاخیر کی۔
تمام صوبوں کے وزراء اعلا کی طرح وزیر اعظم بھی اپنے دفتر میں شکایات سیل بنائیں اور اسی طرح مرکزی حکومت کے بارے عوام کی شکایات دور کریں۔ وہ مرکزی حکومت کے خودمختار اور نیم خودمختار اداروں کے بارے میں بھی شکایات دور کرائیں۔
ای میل سے شکائت وہ سارے مسائل ختم کر دے گی، جو کاغذ پر لکھی درخاست پیدا کرتی ہے۔ کسی رجسٹر کی ضرورت نہ ہوگی، جس پر شکائت کا اندراج کیا جائے۔ شکائت متعلق اہل کاروں تک پہنچنے میں دنوں کی بجائے منٹ لگیں گے۔ رپورٹ کے لیئے یاددہانی کے خط بار بار نہیں لکھنے پڑیں گے۔ شکائت یا رپورٹ کے راستے میں گم ہونے کا امکان نہیں رہے گا۔
مجوزہ طریقہ سے ایک بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ چونکہ ہر شکائت براہ راست وزیر اعلا یا وزیر اعظم کے دفتر جائے گی، ہر وزارت، محکم، شعبہ، وغیرہ کے سربراہ سے نیچے تک سب کو دھڑکہ لگا رہے گا کہ پتہ نہیں کس کوتاہی یا بدعنوانی پر شکائت ہو جائے۔ چنانچہ سب افسر اور اہلکار پوری کوشش کریں گے کہ کوئی شکائت پیدا ہی نہ ہو۔
13 اگست 2013